17 اپریل 2010 - 19:30

امریکی محکمے خارجہ نے اسامہ بن لادن کی تصویر کے لئے اسپین کےایک سیاستدان گیسپرلیماز یرس کے چہرے کے نقوش استعمال کرنے کے معاملے کا راز افشا ہونے پر مذکورہ تصاویر کو اپنی ویب سائٹ پر سے ہٹادیا ہے ۔ اس سے قبل ایف بی آئی نے بھی اعتراف کیا تھا کہ اسامہ کی تصویر ڈیزائن کرنے والے شخص نے انٹرنیٹ پر موجود ایک تصویر سے استفادہ کیا تھا۔

اسپین کے سیاستدان گیسپرلیمازیرس نے امریکیوں کے اس اقدام کو شرمناک قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ میں اس بات پر حیران ہوں کہ ایک جیتے جاگنے انسان کو ایک دہشت گرد کی تصویر بنانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اس مسئلے پر کم از کم میڈیا کی سطح پر اس وقت ایک بحث ہورہی ہے، قطع نظر اس کے کہ امریکہ کا یہ قدم درست تھا یا غلط ایک مسئلہ جواب طلب ہے اور وہ یہ کہ امریکہ کو اس بات کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ وہ گیارہ سال سے لاپتہ شخص کی تصویر میڈیا پر جاری کرے اور لوگوں کو بتا دے کہ اسامہ بن لادن اب اس شکل و صورت کا ہوگا۔حقیقت امر یہ ہے کہ جس دہشت گرد کو انہوں نے نائن الیون کے واقعے کا ذمہ دار قرار دیکر افغانستان کو تہس نہس کیا اسے دنیا تقریبا" بھول چکی ہے اور دنیا پر یہ حقیقت بھی واضح ہوچکی ہے کہ اسامہ بن لادن سی آئی اے کا پروردہ ہے اور امریکہ اس کے وجود سے آج بھی فائدہ اٹھا رہا ہے اور میڈیا کے ذریعے اس کی تصویروں کی تشہیر کا مقصد در اصل دنیا والوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ اسامہ کا خطرہ موجود ہے اور جب تک یہ خطرہ باقی ہے وھائیٹ ہاؤس کو من مانی کرنے کا جواز حاصل رہے گا۔ایک اور پروپيگنڈہ امریکی حکام کی طرف سے یہ کیا جا رہا ہے کہ القاعدہ کے دہشت گردوں نے یمن میں پناہ لے رکھی ہے چنانچہ اسامہ کی تصاویر کی اشاعت اور یمن میں القاعدہ کی موجودگی کے پروپیگنڈے کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاکر دیکھا جائے تومستقبل میں یمن کے کھنڈرات پر امریکی فوج کے جھنڈے لہراتے نظر آئیں گے اور نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سعودی حکومت اس معاملے میں کافی پیش پیش ہے ۔ سعودی عرب کی امریکہ نواز شاہی حکومت نے اپنی مقدس نمائی کے ذریعے اسلامی و عرب دنیا پر اپنی جو دھاک بٹھا رکھی ہے اس سے اصل فائدہ امریکہ ہی اٹھارہا ہے ۔ القاعدہ اور طالبان کو پروان چڑھانے میں سعودی عرب کا کردار کسی پر پوشیدہ نہیں ہے اور دنیا اس بات سے بھی اچھی طرح واقف ہے کہ یہ دونوں دہشت گرد گروپ امریکی ایما پر ہی وجود میں لائے گئے تھے جنہوں نے اسلامی دنیا میں امریکی اہداف کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ افغانستان ، عراق اور پاکستان میں سعودیوں کا اثر رسوخ ہی اس بات کا موجب بنا ہے کہ امریکہ ان ملکوں کی تقدیر پر قابض ہوگیا ہے اور اب القاعدہ کے باقیات کو یمن کے ساتھ نتھی کرکے اسلامی دنیا کے ایک اور ملک کو جو عرب دنیا کا ایک غریب اور پسماندہ ملک شمار ہوتا ہے، کھنڈر بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں اور اس مقصد کے لئے مغربی ذرا‏ئع ابلاغ اور ان سے وابستہ علاقائی اور عالمی میڈیا، سی آئی اے کے اشاروں پر رائے عامّہ کو ہموار کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ اسامہ بن لادن کی تصاویر کی اشاعت اور اسپین کے ایک معروف سیاستدان کے ساتھ اس کی مشابہت کوئي اتفاقی امر نہیں ہے جس کا دعوی ایف بی آئی اور امریکی وزارت خارجہ کررہی ہے بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسا کیا گیا ہے تا کہ اسامہ بن لادن کا ہوا کھڑا رہے۔ظاہر ہے کہ جب تک اسامہ بن لادن کا خطرہ رہے گا خطے میں امریکی مداخلت کا جواز برقرار رہے گا ۔